ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اڈپی ضلع میں نیشنل ہائی وے پر ہلاکت خیز حادثات میں اضافہ - 20 دن میں 14 افراد موت کا شکار

اڈپی ضلع میں نیشنل ہائی وے پر ہلاکت خیز حادثات میں اضافہ - 20 دن میں 14 افراد موت کا شکار

Fri, 22 Jul 2022 21:06:38    S.O. News Service

اڈپی،22؍جولائی (ایس او نیوز) نیشنل ہائی وے 66 کی توسیع کے بعد موٹر گاڑیوں کی تیز رفتاری ، بعض مقامات پر سڑک کی غیر سائنٹفک تعمیر اور ڈرائیوروں کی لاپروائی کی وجہ سے ہلاکت خیز حادثات میں روزبروز اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے ۔ 
    
اگر اڈپی ضلع کی بات کریں تو جولائی مہینے کے گزشتہ  تین ہفتوں میں یہاں 41 حادثات ہوئے ہیں جن میں سے 8 سنگین اور خطرناک حادثے بھی شامل ہیں اور ان میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 14 ہے ۔ جبکہ سنگین طور پر زخمی ہونے والوں کی تعداد 24 اور 12 چھوٹے موٹے حادثات میں 34 افراد معمولی طور پر زخمی ہوئے ۔ 
    
ایک جائزہ کے مطابق 3 جولائی کو کنداپور کے پاس مرونتے میں کار پلٹ کر سمندر میں گرنے سے 2 مسافروں کی موت ہوئی تھی ۔ جولائی 17 کو بیندور کے قریب کمبداکونے میں جو موٹر بائک حادثہ ہوا اس میں 2 نوجوان موت کا شکار ہوئے ۔ اور پھر 20 جولائی کو شیرور ٹول گیٹ پر جو ایمبولینس کا حادثہ ہوا اس میں 4 افراد ہلاک ہوئے ۔ اس طرح 20 دن کے اندر 8 افراد نے جن 3 سڑک حادثوں میں اپنی جان گنوائی ہے اس کا سبب گاڑیوں کو انتہائی تیز رفتاری سے چلانا ہے ۔ 
    
جون کی جو رپورٹ ہے اس کے مطابق اس مہینے میں 102 حادثے ہوئے تھے اور اس میں 18 افراد کی موت واقع ہوئی تھی ۔ جملہ 54 بھیانک قسم کے حادثات میں 57 افراد سنگین طور پر زخمی ہوئے اور 31 چھوٹے موٹے حادثوں میں 55 افراد کو معمولی چوٹیں آئیں ۔ 
    
کیا کہتے ہیں پولیس سپرنٹنڈنٹ: ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وشنو وردھن کہتے ہیں : "اکثر حادثات تیز رفتاری اور لاپروائی سے کی جا رہی ڈرائیونگ کا نتیجہ ہوتے ہیں ۔ جب گاڑیاں تیز رفتاری سے دوڑائی جاتی ہیں تب اچانک کوئی پیدل شخص یا کوئی جانور سامنے آنے پر فوری بریک لگانا پڑتا ہے ۔  نتیجہ کے طور پر گاڑی ڈرائیور کے قابو میں نہیں رہتی اور حادثہ  ہوجاتا ہے ۔ ڈرائیوروں کو سمجھنا چاہیے کہ ان کی گاڑیوں میں سوار مسافروں کی جان کا تحفظ ان کے ہاتھوں میں ہوتا ہے ۔ اس لئے ڈرائیوروں کو اپنی گاڑیوں کی رفتار حد میں رکھنا چاہیے ۔ اور ٹریفک قوانین کا پورا خیال رکھنا چاہیے ۔ اس سے حادثوں کو بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے ۔"
    
نیشنل ہائی وے 66 پر بلیک اسپاٹس: نیشنل ہائی وے 66 پر بار بار جن مقامات پر حادثے ہوتے ہیں انہیں بلیک اسپاٹس کہا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے ہیجماڈی سے شیرور تک کے علاقے میں کُل 38 مقامات کو بلیک اسپاٹس کے زمرے میں رکھا گیا تھا ۔ ان میں سے 20 مقامات پر بڑی تعداد میں واقع ہونے والے حادثات کے معاملے روکنے کے لئے ضروری اقدامات کیے گئے جن میں چوکنا کرنے والے سائن بورڈس لگانا ، اسٹریٹ لائٹ کا مناسب انتظام کرنا ، اسپیڈ کنٹرول کرنے کے بیریکیڈنگ کا انتظام شامل ہے ۔ بقیہ 18 مقامات پر بھی اس طرح کی احتیاطی تدابیر اور حادثات روکنے کے لئے ضروری انتظامات کی کارروائی کی جا رہی ہے ۔ اڈپی ضلع کے ایس پی وشنووردھن نے بتایا کہ نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا کے افسران نے یہ کام جلد ہی پورا کرنے کا تیقن دیا ہے ۔
    
کیا کہتے ہیں سماجی خدمتگار: وشنو شیٹی امبلپاڈی نامی ایک سماجی خدمت گار میں سڑک حادثات میں ہو رہے اضافے پر اپنا تاثر دیتے ہوئے کہا : " حادثات میں اضافہ کے لئے صرف سڑک کی حالت ہی نہیں  بلکہ ہم خود بھی اس کے لئے پوری طرح ذمہ دار ہوتے ہیں ۔ جن کے پاس لائسنس نہیں ہوتا انہیں گاڑی خریدنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ، اس طرح بغیر لائسنس گاڑیاں چلانا عام ہے ۔ اس کے علاوہ گانجہ اور شراب کے نشے میں بھی گاڑیاں چلانا اور ڈرائیور کی عجلت اور تیز رفتاری  حادثات کے اسباب میں شامل ہے ۔ 
    
کیا کہتے ہیں ڈپٹی کمشنر: ضلع ڈپٹی کمشنر کورما راو نے بتایا کہ محکمہ پولیس ، نیشنل اتھاریٹی آف انڈیا اور محکمہ پی ڈبلیو ڈی نے مشترکہ طور پر ضلع میں موجود بلیک اسپاٹس کی نشاندہی کرتے ہوئے انجینئر کو رپورٹ بھیجی ہے ۔ سڑک پر پائے جانے والے گڈھے بھرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ اسی طرح برسات بہت تیز ہونے کی وجہ سے ڈرائیوروں کو بھی اپنی گاڑیوں کی رفتار قابو میں رکھنی چاہیے ۔ اس تعلق سے بیداری لانے کا کام مسلسل ہونا چاہیے ۔ عوام اور طلباء کے اندر بیداری مہم چلانے کا پروگرام بنایا گیا ہے۔        


Share: